اکستان نے سمندری میزائل کا تجربہ کیا۔ 

افغانی سرخوں نے فوراً اعتراض کیا اور پاکستان کے بجٹ اور کرونا وبا میں اس “فضول خرچی” پر سوالات اٹھانے شروع کر دئیے۔ بلکہ چند ممالک کے نام بھی پیش کیے جنہوں نے کرونا وبا کے پیش نظر اپنے دفاعی بجٹ میں کٹوتیاں کی ہیں۔ 

لیکن یہ نہیں بتایا کہ عین اسی دن انڈیا نے اپنے دفاعی بجٹ میں تقریباً دس فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ یوں ان کا دفاعی بجٹ 67 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ یعنی پاکستان کے کل قومی بجٹ سے بھی زیادہ۔ 

جب کہ پاک فوج نے آخری بار بجٹ میں سے اضافہ ہی نہیں لیا تھا۔ 

سرخے یہ بھی نہیں بتا رہے کہ مشرقی سرحدوں اور ایل او سی پر انڈین آرمی کی پچھلے دو عشروں کے دوران سب سے زیادہ ڈپلوئیمنٹ ہوئی ہے اور جنگ کے خطرات شدید تر ہیں جو کرونا سے کئی گنا بڑا خطرہ ہے۔ 

افغانستان کی جانب سے بھی شورشیں مسلسل جاری ہیں۔ 

افواج پاکستان کے بجٹ کے حوالے سے بہت عرصہ تک یہ جھوٹ چلایا گیا کہ اسی فیصد بجٹ کھا جاتی ہے۔ اس کا تو الحمد اللہ ہم نے 2011ء میں پول کھول لیا تھا جب ہمارے ہاتھ سوشل میڈیا لگا تھا۔  🙂

اس حوالے سے آج آپ کو کچھ اور حقائق سے آگاہ کرتے ہیں۔ 

Courtesy:The Info teachers

جن ٹیکسز کا ہم فوج کو آئے دن طعنہ مارتے ہیں ان ٹیکسز میں سب سے بڑا حصہ خود فوج ڈالتی ہے۔ 

پچھلے سال مختلف ٹیکسز کی مد میں پاک فوج نے پچھلے سال 18 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو سب سے زیادہ ہے۔ 

ان ٹیکسز میں انکم ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، تنخواہوں سے کٹوتیاں، ھاؤس رینٹ الاؤنس، یوٹیلٹی بلز، کسٹم ڈیوٹی ٹیکس، تعمیرات کی مد میں ادا کیا گیا ٹیکس اور فوج کے زیر انتظام چلنے والے اداروں کا ادا کیا گیا ٹیکس شامل ہے۔ 

پھر فوجی تنخواہوں سے جڑے 30 لاکھ کے قریب افراد جو ٹیکس ہماری طرح آٹے، چینی اور دالوں وغیرہ کی مد میں ادا کرتے ہیں وہ تقریباً 50 ارب روپے بنتے ہیں۔ 

جہاں تک افواج پاکستان کے کاروبار کا تعلق ہے تو آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دنیا کے کئی ممالک کی افواج کاروبار کرتی ہیں اور ان میں انڈیا، بنگلہ دیش اور افغانستان بھی شامل ہیں۔ 

بلکہ افغانستان کی فوج تو منشیات کی سمگلنگ بھی کرتی ہے اور پوری دنیا میں سب سے بڑے پیمانے پر منشیات کی نقل و حمل میں ملوث ہے۔  🙂

پاک فوج جو کاروبار کر رہی ہے اس کے لیے انہوں نے ایک روپیہ بھی ریاست پاکستان سے نہیں لیا۔ 

اس کا آغاز فوجیوں کی تنخواہوں سے کئی گئی کٹوتیوں کی رقوم سے ہوا۔ مقصد یہ تھا کہ جو فوجی شہید ہوجائیں تو ان کی فیملیوں کی کفالت فوج خود کر سکے اور یہ بوجھ ریاست پر نہ ڈالا جائے۔ 

لیکن جب فوجیوں کی تنخواہوں سے کاٹی گئی کافی رقم جمع ہوگئی تو اس کی محفوظ سرمایہ کاری کا فیصلہ ہوا۔ پھر یہ رقم بڑھتی چلی گئی اور مزید نئی سرمایہ کاریاں کی گئیں۔ 

ان سرمایہ کاریوں کا فائدہ کس کو ہوا؟ 

ان کاروباروں سے کمایا گیا ایک روپیہ بھی کسی وردی والے فوجی کے کام نہیں آتا۔ نہ ان کا منافع پاک فوج کے پاس جاتا ہے۔ 

ان کاروباری اداروں میں 75 فیصد سولینز کام کررہے ہیں جن کے گھر ان اداروں کی بدولت چل رہے ہیں۔ 

جب کہ 25 فیصد فوج کے ریٹائرڈ ملازمین ان اداروں میں ملازمتیں کرتے ہیں۔ میرے خیال میں فوجی ریٹائرڈ ہونے کے بعد سولین ہی کہلائیگا۔

پاک فوج میں جوانوں کو چالیس سال کی عمر تک ریٹائرڈ کر دیا جاتا ہے تب ان کے پاس سوائے کہیں چوکیدارا کرنے کے کوئی آپشن نہیں بچتا۔ ان اداروں میں ایسے بہت سے ریٹائرڈ فوجی ملازمین کو باعزت ملازمت مل جاتی ہے اور وہ ریاست پر بوجھ نہیں بنتے۔ 

ہر ادارے کا کنٹرول البتہ فوج کے پاس ہے اس لیے پورے ادارے کو زیادہ سے زیادہ ایک یا دو وردی والے فوجی چلارہے ہوتے ہیں باقی سارے سولینز۔ 

یہی ادارے شہداء کے لواحقین کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور ریاست یا قومی خزانے پر یہ بوجھ نہیں پڑتا۔

نیز فوج کے ان کاروباروں سے ہزاروں ایسے سولینز کا روزگار بھی جڑا ہوا ہے جو ان اداروں میں براہ راست ملازم نہیں ہیں۔ 

خلاصہ اس کا یہ ہوا کہ شہداء کے لیے فوج نے اپنی تںخواہوں سے پیسے کاٹے، پھر ان پر جائز کاروبارہ شروع کیا جو سارا کا سارا سویلینز سنبھال رہے ہیں اور وہی اس سے مستیفد بھی ہورہے ہیں،  صرف کنٹرول فوج کے پاس ہے اور یہ کاروبار آج لاکھوں سولینز کی کفالت کر رہے ہیں اور ملکی معیشت کو بھی بہت بڑا سہارا دیا ہوا ہے۔ 

(پاک فوج کے کاروبار  پر پھر کبھی تفصیل سے ان شاءاللہ)

اور ایک اور بات 

ڈیفنس یا عسکری ھاؤسنگ سوسائٹی وغیرہ میں کسی فوجی یا افسر کو پلاٹ مفت میں نہیں ملتا۔ 20 سال کی عمر میں کمیشن پاکر 25 یا 30 سال نوکری کر کر کے اپنی ماہانہ تنخواہ سے پیسے کٹوا کٹوا کر بلاآخر پلاٹ لینے کا حق دار قرار پاتا ہے جس کو ہم طعنہ مارتے ہیں کہ “بھئی تمہارے مزے ہیں۔ تمہیں تو فری میں مل گیا”

اسی طرح ان ھاؤسنگ سوسائیٹیز کے لیے زمین پیسے دے کر خریدی جاتی ہے۔ ڈی ایچ اے لاہور کے بیچوں بیچ ایک گاؤں والوں نے اپنی زمین بیچنے سے انکار کیا تو وہ گاؤں آج بھی آباد ہے بلکہ ڈیفنس والوں نے ان کو سڑک بھی بنوا کر دی ہوئی ہے۔ 

باقی سرمایہ کفالت یا پرویڈنٹ فنڈ کس سرکاری یا نجی ادارے میں نہیں ہوتا؟؟

تو کل ملا کر بات یہ ہوئی کہ ۔۔۔ 

پاک فوج کا بجٹ دنیا بھر کی افواج کے مقابلے میں مضحکہ خیز حد تک کم ہے۔ ( بلحاذ حجم اور درپیش جنگوں کے)

افواج پاکستان ٹیکسز کی شکل میں بہت بڑی رقم ہمیں واپس بھی کر دیتی ہیں۔ 

اپنی تنخواہوں سے کاٹی گئی رقوم سے بہت بڑی تعداد میں سیولینز کو بھی پال بھی رہی ہیں اور ان کاروباروں کا فائدہ صرف ان فوجیوں کو ہوتا ہے جو ریٹائرڈ ہوجائیں یا اپنی جان دے دیں۔ 


0 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *