جامعہ کراچی خود کش حملے کی تحقیقات میں نئے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، جیو نیوز نے کئی اہم سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کرلیں۔

خاتون حملہ آور ایک دن پہلے بھی دھماکے کی نیت سے آئی تھی، مگر وین میں انسٹی ٹیوٹ کے چینی ڈائریکٹر موجود نہ تھے، اس لئے حملہ ایک دن آگے بڑھا دیا گیا۔

لاسٹ منٹ لیڈی ہینڈلر موقع پر پہلے سے موجود تھی، خاتون بمبار نے وہاں پہنچتے ہی اُسے ایک مخصوص فون دیا، جس پر بات کرتے ہوئے وہ موقع سے غائب ہوگئی۔ دھماکا خیز مواد کو زیادہ سے زیادہ آتش گیر بنانے کیلئے بڑی مقدار میں فاسفورس کا استعمال کیا گیا۔

فتیش کار جامعہ کراچی خود کش حملہ کیس کی گتھیاں ایک کے بعد ایک سلجھانے میں مصروف ہیں، جیونیوز کو حاصل ہونے والی خصوصی ویڈیوز سے پتا چلا ہے کہ خاتون بمبار شری بلوچ دھماکے سے ایک روز قبل بھی جائے واردات پر عین اُسی مقام پر موجود تھی۔

انسٹی ٹیوٹ اسٹاف کی وین قریب آئی تو اس نے جھانک کر اندر دیکھا، اس کا خاص ہدف چونکہ انسٹی ٹیوٹ کے چینی ڈائریکٹر تھے، اس لئے ان کے اندر موجود نہ ہونے پر اس نے دھماکا اگلے دن کیا۔

دھماکے والے روز شری بلوچ دہلی کالونی والے فلیٹ سے رکشے میں روانہ ہوئی، سلور جوبلی گیٹ سے یونیورسٹی میں داخل ہوئی، رکشے کے آگے ایک سفید رنگ کی مشکوک گاڑی چلتی رہی، خاتون بمبار موقع پر پہنچ کر رکشے سے اتری، “لاسٹ منٹ لیڈی ہینڈلر” سے ملی اور اسے ایک مخصوص موبائل فون دیا، لیڈی ہینڈلر موبائل فون لے کر کسی سے بات کرتے ہوئے آگے گئی اور فرار ہوگئی۔

 تفتیش کاروں کے مطابق خود کش بمبار کو بم بیگ پیک میں بنا کر دیا گیا، یہ بم کہیں باہر ہی اس کے حوالے کیا گیا ہوگا، بم میں انڈسٹریل ایکسپلوزو کے علاوہ فاسفورس کا استعمال بھی کیا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شری بلوچ کے دہلی کالونی والے گھر سے کئی کتابیں بھی ملی ہیں، شری بلوچ گلستان جوہر والے فلیٹ میں مارچ تک رہتی رہی، جہاں وہ اپنے شوہر ہیپتان بلوچ کے ساتھ گھنٹوں کاریڈور میں بیٹھی باتیں کرتی رہتی۔